تجنیس مرکب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دو متجانس لفظوں میں سے ایک لفظ کا اپنی اصل وضع پر اور دوسرے لفظ کا مرکب ہونا۔ "ایک مثنوی لکھی ہے کہ اس کی ہر بیت کے قافیہ میں تجنیس مرکب کی رعایت ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، ترجمہ مطلع العلوم، ٢٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تجنیس' کے ساتھ کسرہ صفت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی صفت 'مرکب' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٥ء میں "ترجمہ مطلع العلوم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دو متجانس لفظوں میں سے ایک لفظ کا اپنی اصل وضع پر اور دوسرے لفظ کا مرکب ہونا۔ "ایک مثنوی لکھی ہے کہ اس کی ہر بیت کے قافیہ میں تجنیس مرکب کی رعایت ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، ترجمہ مطلع العلوم، ٢٤٠ )

جنس: مؤنث